قبضہ اور پانی مافیا کے سامنے قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس لگ رہے ہیں، سپریم کورٹ

0
818

سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2013 میں قتل کی گئیں سماجی کارکن پروین رحمٰن کے کیس میں ریمارکس دیے ہیں کہ ‘قانون نافذ کرنے والے ادارے لینڈ اور واٹر مافیا کے سامنے بے بس نظر آرہے ہیں’۔

عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے پروین رحمٰن قتل کیس کی سماعت کی، اس دوران مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ بابر بخت قریشی عدالت میں پیش ہوئے۔

سماعت کے آغاز پر عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کس رینک کے افسر ہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ میں ڈی آئی جی رینک کا افسر ہوں، اس پر پھر عدالت نے استفسار کہ ابھی تک آپ کو تحقیقات میں کیا کامیابی ملی؟

عدالتی استفسار پر جے آئی ٹی سربراہ نے جواب دیا کہ تاحال کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکی، وقت زیادہ گزرنے کی وجہ سے جیوفینسنگ بھی ممکن نہیں۔

مزید پڑھیں: پروین رحمٰن قتل کیس کی تحقیقات کیلئے نئی جے آئی ٹی تشکیل

اس موقع پر انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ مزید ڈھائی ماہ کا وقت دیا جائے تاکہ کسی نتیجے پر پہنچ سکیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ 6 سال پہلے ہی گزر چکے ہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے کیا کررہے ہیں، یہ معاملہ ایک معمہ بنتا جارہا ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی بنانے کی ضرورت اسی لیے پیش آئی تھی کیونکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام صحیح سے نہیں کر رہے تھے۔

انہوں نے استفسار کیا کہ ‘2013 سے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کیا کیا؟ کیا یہ مافیاز قانون نافذ کرنے والے اداروں کی دسترس سے باہر ہیں؟

ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ لینڈ اور واٹر مافیا کے سامنے قانون نافذ کرنے والے ادارے بے بس نظر آرہے ہیں۔

اپنے ریمارکس جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس اصلاحات بھی اسی لیے کی جارہی ہیں، ‘جو لوگ خدمت خلق کرتے ہیں، ان کو مافیا نے مار دیا’۔

بعد ازاں عدالت نے ریمارکس دیے کہ جے آئی ٹی کے سربراہ بابر بخت قریشی کو دے رہے ہیں تاہم عبوری رپورٹ 3 ہفتوں میں جمع کروائی جائے۔

واضح رہے کہ جون میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ تفتیش کار اب بھی قتل سے متعلق ‘بنیادی فرانزک اور واقعاتی ثبوت’ اکٹھا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کیونکہ 2 مشترکہ تحقیقاتی ٹیموں نے مبینہ طور پر اس ہائی پروفائل قتل کے معمہ کو حل کرنے میں بنیادی چیزوں کو نظرا نداز کیا۔

یہ انکشاف اس عبوری رپورٹ میں سامنے آیا تھا جو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی تھی، جہاں مقتولہ کی بہن عقیلہ اسمٰعیل نے درخواست دائر کی تھی کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کی جانب سے اس کیس کی دوبارہ تحقیقات کروائی جائیں۔

پروین رحمٰن قتل

واضح رہے کہ غریب علاقوں کے لیے اپنی زندگی مختص کرنے والی پروین رحمٰن کو 2013 میں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں ان کے دفتر کے قریب قتل کردیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: پروین رحمٰن قتل کیس: 5 سال میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی،سپریم کورٹ برہم

اس قتل کے اگلے روز ہی پولیس نے طالبان کے ایک سرگرم قاری بلال کو مقابلے میں قتل کردیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ پروین رحمٰن کا قاتل تھا۔

تاہم عدالتی تحقیقات میں پولیس افسران کی جانب سے تفتیش کو نقصان پہنچانے کی بات سامنے آنے پر اپریل 2014 میں سپریم کورٹ نے انتظامیہ کو حکم دیا کہ وہ پروین رحمٰن قتل کیس کی نئی تحقیقات کرے۔

بعد ازاں 2018 میں سامنے آنے والی جے آئی ٹی رپورٹ میں اس قتل کے پیچھے 3 ممکنہ نظریات کی وضاحت کی گئی تھی، پہلا یہ کہ ٹی ٹی پی یا جہادی عناصر پروین رحمٰن کے نظریہ کے خلاف تھے، دوسرا شہر میں غیرقانونی واٹر اور ہائیڈرنٹ مافیا اور تیسرا زمین پر قبضے میں ملوث منظم جرائم گروپس کیونکہ وہ گوٹھ آباد اسکیموں کے رہائیشوں کے زمینی حقوق محفوظ بنانے میں مدد کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here