پاکستان، بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری فعال کرنے کے معاہدے پر دستخط

0
690

پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط ہوگئے جس کے بعد بھارت اور دنیا کے دوسرے حصوں سے سکھ برادری دنیا کے سب سے بڑے گرد وارے آسکے گی۔

کرتارپور راہداری کا منصوبہ فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب کرتارپور زیرو لائن پر منعقد ہوئی۔

اس موقع پر پاکستان کی جانب سے ترجمان دفتر خارجہ اور ڈائریکٹر جنرل جنوبی ایشیاو سارک ڈاکٹر محمد فیصل نے جبکہ بھارت کی جانب سے بھارتی وزارت امور خارجہ کے جوائنٹ سیکریٹری اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ ایس سی ایل داس نے دستخط کیے۔

Advertisements

معاہدے پر دستخط کے بعد ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے امن کا پودا بھی لگایا۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان کیے گئے معاہدے کے تحت روزانہ 5 ہزار سکھ یاتری بغیر ویزا گوردوارہ کرتار پور صاحب میں اپنی مذہبی رسومات ادا کرسکیں گے۔

—فوٹو: ڈان نیوز
—فوٹو: ڈان نیوز

معاہدے کے تحت 5 ہزار میں انفرادی یا گروپ کی شکل میں یاتری پیدل یا سواری کے ذریعے صبح سے شام تک سال بھر ناروال کرتارپورآسکیں گے تاہم سرکاری تعطیلات اور کسی ہنگامی صورتحال میں یہ سہولت میسر نہیں ہوگی۔

علاوہ ازیں سکھ یاتریوں کو موثر بھارتی پاسپورٹ پر کرتارپور راہداری استعمال کرنے کی اجازت ہوگی،بیرون ملک رہائشی سکھ یاتریوں کو بھارتی اوریجن کارڈ پر اس سہولت کا فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوگی۔

اس سلسلے میں بھارتی حکومت سکھ یاتریوں کی فہرست دس دن قبل پاکستان کے حوالے کرے گی۔

کرتارپور راہداری فعال کرنے سے متعلق معاہدے پر دستخط کی تقریب کے بعد ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کے اقدام کے مطابق ہم نے بھارت کے ساتھ کرتارپور کے معاہدے پر دستخط کرلیے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان 9نومبر کو کرتارپور راہداری کا باضابطہ افتتاح کریں گے جس کے لیے پُروقار تقریب کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔

گزشتہ روز ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ کوشش ہے کہ کل (بروز جمعرات) کرتارپور راہداری کے معاہدے پر دستخط ہوجائیں۔

انہوں نے کہا کہ کرتاپور راہداری سے متعلق دوسرے اجلاس کے بعد بھارت نے معاہدے کی متعدد شق کا تذکرہ کیا لیکن ہم معاہدے پر دستخط کے بعد میڈیا سے اس کا پورا متن فراہم کریں گے۔

ڈاکٹر محمد فیصل نے بتایا کہ بھارتی سکھ یاتری ایک روزہ دورے پر پاکستان آئیں گے اور سروسز چارجز کی مد میں فی کس 20 ڈالر ادا کریں گے۔

اس سے قبل بھارتی وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ ’حکومت 23 اکتوبر 2019 کو کرتار پور راہداری کے سمجھوتے پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ ہے‘۔

خیال رہے کہ مذکورہ سمجھوتے کی تفصیلات پر رواں برس مارچ سے مذاکرات کیے جارہے تھے اور بات چیت کا پہلا دور اٹاری واہگہ سرحد پر بھارتی مقام میں 14 مارچ کو منعقد ہوا تھا۔

دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوران مختلف امور پر اختلاف پایا گیا جس میں یاتریوں کی تعداد، راہداری کھلے رہنے کی مدت اور پاکستان سکھ پربندھک کمیٹی (پی اسی جی پی سی) میں شامل اراکین کا معاملہ بھی شامل تھا۔

خیال رہے کہ کرتارپور گردوارے تک سکھ یاتریوں کو ویزا کے بغیر رسائی دینے والی راہداری کا افتتاح 12 نومبر کو گرو نانک کی 550ویں جنم دن کے پیشِ نظر 3 روز قبل 9 نومبر کو کیا جائے گا۔

مذکورہ راہداری کے ذریعے تقریباً 5 ہزار سکھ یاتری روزانہ زیارت کے لیے کرتارپور صاحب آسکتے ہیں۔

کرتار پور کہاں ہے اور سکھوں کے لیے اتنا اہم کیوں؟

کرتار پور پاکستانی پنجاب کے ضلع نارووال میں شکر گڑھ کے علاقے میں دریائے راوی کے مغربی جانب واقع ہے۔ جہاں سکھوں کے پہلے گرونانک دیو جی نے اپنی زندگی کے 18 برس گزارے تھے۔

کرتارپور میں واقع دربار صاحب گردوارہ کا بھارتی سرحد سے فاصلہ تین سے چار کلومیٹر کا ہی ہے۔

سکھ زائرین بھارت سے دوربین کے ذریعے ڈیرہ بابانک کی زیارت کرتے ہیں بابا گرونانک کی سالگرہ منانے کے لیے ہزاروں سکھ زائرین ہر سال بھارت سے پاکستان آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کرتارپور راہداری پر پاکستان اور بھارت کے درمیان تکنیکی سطح کے مذاکرات

پاکستان میں واقع سکھوں کے دیگر مقدس مقامات ڈیرہ صاحب لاہور، پنجہ صاحب حسن ابدال اور جنم استھان ننکانہ صاحب کے برعکس کرتار پور ڈیرہ بابا نانک سرحد کے قریب ایک گاؤں میں ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کرتارپور سرحد کھولنے کا معاملہ 1988 میں طے پاگیا تھا لیکن بعد ازاں دونوں ممالک کے کشیدہ حالات کے باعث اس حوالے سے پیش رفت نہ ہوسکی۔

سرحد بند ہونے کی وجہ سے ہر سال بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر سکھ بھارتی سرحد کے قریب عبادت کرتے ہیں اور بہت سے زائرین دوربین کے ذریعے گردوارے کی زیارت بھی کرتے ہیں۔

کرتار پور راہداری کھولنے کا فیصلہ

خیال رہے گزشتہ برس اگست میں سابق بھارتی کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی دعوت پر وزیراعظم عمران خان کی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستان آئے تھے۔

انہوں نے اس تقریب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے گلے ملے اور ان سے غیر رسمی گفتگو کی تھی۔

اس حوالے سے سدھو نے بتایا تھا کہ جب ان کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ پاکستان گرو نانک صاحب کے 550ویں جنم دن پر کرتارپور راہداری کھولنے سے متعلق سوچ رہا۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ پاکستان فوج کے سربراہ اس ایک جملے میں انہیں وہ سب کچھ دے گئے جیسا کہ انہیں کائنات میں سب کچھ مل گیا ہو۔

بعد ازاں بھارت کے سکھ یاتریوں کے لیے آسانی پیدا کرنے کے لیے وزیراعظم پاکستان عمران خان نے گزشتہ برس 28 نومبر کو کرتار پور راہداری کا سنگ بنیاد رکھا تھا جس میں شرکت کے لیے نوجوت سدھو پاکستان آئے تھے۔

پاکستان نے بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج کو تقریب میں شرکت کی دعوت دی تھی تاہم انہوں نے شرکت سے معذرت کرلی تھی۔

Advertisements

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here