وزیراعظم عمران خان ایک روزہ دورے پر سعودی عرب روانہ

0
403
advertising

وزیراعظم عمران خان دونوں برادر اسلامی ممالک کے تعلقات مضبوط بنانے کے لیے ایک روزہ دورے پر ریاض روانہ ہوگئے۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم سعودی قیادت سے ملاقات کے دوران ’دوطرفہ تعلقات اور خطے کی صورتحال میں حالیہ تبدیلیوں سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کریں گے‘۔

اس ضمن میں دفترخارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ وزیراعظم کا یہ دورہ دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور وفود کے تبادلوں کا حصہ ہے جس کے دوران وزیراعظم روضہ رسول ﷺ پر بھی حاضری دیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم تحفظات دور کرنے کے لیے ہفتے کو سعودی عرب روانہ ہوں گے

اس بارے میں عرب ذرائع کا کہنا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کا حالیہ دورہ، ملائیشیا میں 18 سے 20 دسمبر تک منعقد ہونے والے کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت کے فیصلے پر سعودی عرب کے ناراض ہونے کے اشاروں کے بعد تشکیل دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ کوالالمپور سربراہی اجلاس ملائیشیا کے وزیراعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد کے ذہن کا خیال ہے جس میں ترک صدر رجب طیب اردوان، قطری امیر شیخ تميم بن حمد آل ثاني اور ایران کے صدر حسن روحانی بھی شرکت کریں گے۔

مذکورہ اجلاس میں انڈونیشیا کے صدر جوکو ویدودو کے اجلاس میں شرکت کا بھی امکان تھا تاہم اطلاعات ہیں کہ وہ دباؤ کا شکار ہوگئے ہیں اور ان کا کوئی نمائندہ اجلاس میں شرکت کرے گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعظم عمران خان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالث بن گئے

یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ ملائیشیا کا اقدام کیسا ہے تاہم سعودی عرب پہلے ہی اس اجلاس کو اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا متبادل پیش کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

یہ بات مدَ نظر رہے کہ تیزی سے غیرفعال ہوتی اسلامی تعاون تنظیم سعودی قیادت کے تحت کام کرتی ہے۔

دوسری جانب پاکستان اس اجلاس میں گہری دلچسپی رکھتا ہے اور اس سلسلے میں وزارت خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ ’کوالالمپور سربراہی اجلاس پاکستان کو مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز خاص طور پر حکمرانی، ترقی، دہشت گردی اور اسلاموفوبیا کے پر تبادلہ خیال کرنے اور ان کے حل تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔

اس سے قبل وزیراعظم عمران خان نے ریاض کو منانے کے لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھیجا تھا جہاں انہوں نے سعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان بن عبداللہ سے ملاقات کی تھی۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق ’دونوں وزرائے خارجہ نے دو طرفہ ایجنڈے پر تبادلہ خیال کے علاوہ خطے میں حالیہ پیش رفت اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی تھی‘۔

علاوہ ازیں گزشتہ چند ماہ سے وزیراعظم نے سعودی عرب اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوشش کی تھی، تاہم اس حوالے سے ماضی کی کوششوں کی طرح حالیہ اقدام میں بھی زیادہ کامیابی نہیں ہوئی تھی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here