پاکستان نئی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے اگلی بڑی مارکیٹ بننے جارہا ہے؟

0
490
An employee works on his computer at the office of CloudFactory, a Canadian startup that based itself in Kathmandu, where it hires teams of Nepalese October 5, 2012. Not far from the world of regimented cubicles and headset-toting call centre operators, a quiet revolution is stirring in its slippers. While it's early days, proponents of so-called commercial crowdsourcing contend that a swelling army of global freelancers is already disrupting traditional outsourcing - from preparing tax statements to conducting research on pediatricians. Picture taken October 5, 2012. To match story ASIA-FREELANCE/ REUTERS/Navesh Chitrakar (NEPAL - Tags: SOCIETY BUSINESS)
advertising

پاکستان میں بڑے پیمانے پر ٹیکنالوجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری نے اس کے ایشیا کی اگلی بڑی مارکیٹ بننے کے امکانات روشن کر دیے ہیں۔

جرمن نشریاتی ادارے ‘ڈوئچے ویلے’ کی رپورٹ میں پاکستان کے ایکو سسٹم سے متعلق ‘میک کینزی اینڈ کو’ کی حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ‘پاکستان کا شمار ایشیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشتوں میں ہوتا ہے۔’

رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ 2010 سے پاکستان میں 720 ٹیکنالوجی بیسڈ کاروبار شروع کیے گئے اور ان میں سے 67 فیصد کامیابی کے ساتھ اب بھی کام کر رہے ہیں۔

لندن میں قائم مواصلاتی کمپنی ‘دا کانٹینٹ آرکیٹیکٹس’ کی بانی حنا حسین کے حوالے سے کہا گیا کہ ‘گزشتہ چند برسوں سے پاکستان کا ٹیک ایکو سسٹم آہستہ آہستہ رفتار پکڑ رہا ہے، اس ملک میں ٹیکنالوجی ٹیلنٹ موجود ہے اور یہ نسبتاً سستا بھی ہے۔’

مزید پڑھیں: پاکستان میں فائیوجی سروس کیلئے 4 سے 5 سال درکار ہیں، پی ٹی اے

انہوں نے کہا کہ ‘یہ مجھ جیسے بانیوں کے لیے مثالی صورتحال ہے، جن کے کاروبار ابھی ابتدائی مراحل میں ہیں۔’

تجارتی مرکز کراچی کو ‘ٹیکنالوجی حب’ بھی قرار دیا جاتا ہے جس سے متعلق حنا حسین کا کہنا تھا کہ ‘کراچی میں ٹیکنالوجی کی مارکیٹ میں ترقی پورے پاکستان میں پائے جانے والے رجحان کی عکاسی کرتی ہے۔’

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں کام کرنے والے ٹیکنالوجی پروفیشنل اسکندر پٹودی نے کہا کہ ‘دنیا میں ٹیکنالوجی زور و شور سے پھل پھول رہی ہے لیکن بڑی کمپنیاں پاکستان کی مارکیٹ میں اب تک داخل نہیں ہوئیں، چند ایک ڈیجیٹل کمپنیوں کو اس وقت فنڈنگ ملی ہے جب پاکستان کی معیشت کے حالات ٹھیک نہیں۔’

انہوں نے کہا کہ ‘اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان، نوجوانوں کی ایک بہت بڑی منڈی ہے، وہاں ٹیکنالوجی کے صارفین زیادہ ہیں جبکہ تھری جی اور فور جی نیٹ ورکس بڑھ رہے ہیں۔‘

ان کا کہنا تھا کہ مئی 2018 میں پاکستان کے پہلے ای کامرس پلیٹ فارم ‘دراز‘ کو چین کے ‘علی بابا گروپ‘ نے تقریباً 20 کروڑ ڈالر میں خریدا، یہ ایک ابتدائی اشارہ تھا کہ کچھ ہونے جا رہا ہے، اس کے بعد سے وہاں غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھ رہی ہے۔

اسکندر پٹودی نے کہا کہ مصر کی ایک ایپ بیسڈ بس سروس کی بنیاد گیارہ ماہ پہلے رکھی گئی، یہ کمپنی اگست 2019 تک ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے فنڈز جمع کر چکی تھی، جبکہ امریکی وینچر کیپٹیل (وی سی) گروپ کی کمپنی ‘فرسٹ راؤنڈ کیپیٹل’ گزشتہ ایک عشرے کے دوران کسی ایشیائی ملک میں سرمایہ کاری کرنے والی پہلی کمپنی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیکنالوجی، ترقی کی دوڑ اور پاکستان کا الٹا سفر

واضح رہے کہ پاکستان کو ‘ڈیجیٹل’ بنانا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔

دسمبر میں ‘ڈیجیٹل پاکستان‘ پروگرام کا افتتاح بھی اسی طویل المدتی پروگرام کا ایک حصہ ہے جس کی سربراہ اور گوگل کی سابقہ ایگزیکٹو تانیہ ایدروس کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد رسائی اور کنیکٹیویٹی کو بڑھانا اور ڈیجیٹل تعلیم کے ساتھ ساتھ ای گورننس کو متعارف کروانا ہے۔

پروگرام کے دیگر مقاصد میں ایک ایسا تجارتی ماحول پیدا بھی کرنا ہے جس سے نئی کاروباری کمپنیوں اور جدت کو مدد مل سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here