شیخوپورہ: سکھ یاتریوں کی بس ٹرین کی زد میں آگئی، 22 افراد ہلاک

0
187

شیخوپورہ: فیصل آباد سے لاہور آنے والی شاہ حسین ایکسپریس کوسٹر سے ٹکرا گئی جس سے کوسٹر میں سوار 22 مسافر ہلاک ہوگئے۔

ترجمان ریلوے کے مطابق حادثہ شیخوپورہ میں فاروق آباد اور بحالی ریلوےاسٹیشن کے درمیان بغیرپھاٹک کی کراسنگ پر پیش آیا۔

ترجمان ریلوے نے بتایا کہ کوسٹر میں 25 سکھ یاتری، ایک ڈرائیور اور ایک کنڈکٹر  سوار تھے جن میں سے 20 یاتری اور ڈرائیو اور کنڈکٹر بھی ہلاک ہوگئے، واقعے کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اہلکار موقع پر پہنچ گئے جنہوں نے زخمیوں اور لاشوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا۔

ریسکیو 1122 کے مطابق پشاور سے سکھ خاندان اپنے رشتہ دار کے انتقال میں شرکت کے لیے ننکانہ صاحب آیا تھا۔

واپسی پر کوچ کے ڈرائیور نے پھاٹک بند دیکھ کر کچھ آگے جا کر کچے راستے سے ریلوے لائن عبور کرنے کی کوشش کی اور اسی دوران کراچی سے لاہور جانے والی شاہ حسین ایکسپریس وہاں پہنچ گئی اور کوچ سے ٹکرا گئی۔

حادثے میں ایک ہی خاندان کے 20 سکھ افراد اور ڈرائیور و کنڈکٹر بھی دم توڑ گئے جبکہ 5 زخمی ہوئے۔ ترجمان ریلوے کے مطابق ٹرین حادثے کی تحقیقات کا حکم دے دیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی نے حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ 

انہوں نے زخمیوں کو تمام ممکنہ سہولتیں فراہم کرنے کاحکم بھی دیا۔ شیخوپورہ کی ضلعی انتظامیہ نے ڈی سی آفس میں کنٹرول روم قائم کر دیا ہے۔ 

وزیراعظم عمران خان نے حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور زخمیوں کو بہترین طبی امداد کی فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حادثہ کوچ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) شیخوپورہ کا کہنا ہے کہ کوچ کو حادثہ ڈرائیور کی غفلت کے باعث پیش آیا،  پھاٹک بند ہونے پر کوچ ڈرائیور نے جلد بازی میں کچے راستے سے گزرنے کی کوشش کی۔

ڈی پی او کے مطابق حادثے میں20 افراد ہلاک اور 8 زخمی ہوئے، لاشوں اور زخمیوں کو ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔

اس حوالے سے چیئرمین پنجابی سکھ سنگت گوپال سنگھ نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے سکھوں کا تعلق پشاورسےہے، حادثےمیں قصورڈرائیورکاہے، ڈرائیور نے مین راستہ چھوڑ کر پٹڑی سےگاڑی گزارنےکی کوشش کی۔

لاشوں کو سی ون تھرٹی طیارے سے پشاور بھیجا جائے گا

حادثے میں ہلاک ہونے والے سکھ یاتریوں کی لاشیں لاہور سے سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے پشاور بھیجی جائیں گی۔ مجموعی طور پر 21 لاشیں پشاور بھیجی جائیں گی جبکہ ایک لاش کو ننکانہ صاحب بھیجا گیا ہے۔

ہلاک ہونے والوں میں 11 مرد (9 سکھ دو مسلمان) اور 10 خواتین اور ایک 4 سالہ بچہ شامل ہے۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here